پی ٹی اے ٹربیونل میں ممبر فنانس کی تعیناتی: 18 مئی تک مہلت، ورنہ وزیراعظم طلب

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ٹربیونل میں ممبر فنانس کی عدم تعیناتی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 18 مئی تک کی حتمی مہلت دے دی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک تعیناتی نہ ہوئی تو وزیراعظم خود پیش ہو کر وضاحت دیں۔

عدالت کے سخت ریمارکس
کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ دورانِ سماعت انہوں نے ریمارکس دیے کہ:

“اگر 18 مئی تک ممبر فنانس تعینات نہ ہوا تو وزیراعظم کو عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ وہ خود آ کر بتائیں کہ ٹریبونل کو فعال کیوں نہیں کیا جا رہا۔”

ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی پر تنقید
سماعت کے دوران جب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو ممبر تعینات کیا گیا ہے، تو جسٹس محسن اختر کیانی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ججز کو ٹربیونلز میں جانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ “رات کو انہیں سیلوٹ (Salute) یاد آتے ہیں جو انہیں سونے نہیں دیتے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اداروں میں تعیناتی کا عمل شفاف اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔

آئندہ کی کارروائی
عدالت نے اس معاملے پر درج ذیل احکامات جاری کیے ہیں:

سیکرٹری کابینہ اور متعلقہ سیکرٹری کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا گیا ہے۔

حکومت کو 18 مئی تک تعیناتی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کیس کی مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی آواز بنیں!
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNWW) کی کوششوں کو سپورٹ کرنے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ مزید معلومات اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر وزٹ کریں:

سپورٹ لنک: HRNWW Support Page

اپنا تبصرہ بھیجیں