شرحِ سود میں اضافہ معیشت اور چھوٹے کاروبار کے لیے تشویشناک ہے: سلیم میمن

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں ایک فیصد اضافے کے فیصلے کو ملکی معیشت، صنعت اور بالخصوص چھوٹے کاروبار (SME Sector) کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

فیصلے کے معاشی اثرات اور تحفظات
سلیم میمن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں مہنگائی کی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ (Cost-push inflation) ہے، وہاں شرحِ سود بڑھانے سے معاشی رفتار مزید سست پڑ جاتی ہے۔ ان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

کاروباری لاگت میں اضافہ: تاجر اور صنعتکار پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس کی قیمتوں اور بھاری ٹیکسز تلے دبے ہوئے ہیں، ایسے میں مہنگی بینک فنانسنگ اور ورکنگ کیپیٹل کا حصول کاروبار کو ناممکن بنا دے گا۔

مہنگائی کے اصل اسباب: انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی وجہ کاروباری قرضے نہیں بلکہ توانائی کا بحران، درآمدی دباؤ اور غیر متوازن ٹیکس نظام ہے۔ شرحِ سود بڑھانا ان مسائل کا حل نہیں بلکہ روزگار اور سرمایہ کاری پر بوجھ ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی: اس فیصلے سے نہ صرف مقامی صنعت کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے امکانات بھی کمزور پڑ جائیں گے۔

حکومت سے مطالبات اور تجاویز
صدر چیمبر نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے درج ذیل تجاویز پیش کیں:

ٹیکس اصلاحات: صرف شرحِ سود بڑھانے کے بجائے ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں وضع کی جائیں۔

پیداواری لاگت میں کمی: بجلی اور گیس کے نرخوں میں استحکام لا کر مہنگائی کو حقیقی معنوں میں کنٹرول کیا جائے۔

صنعتوں کی مضبوطی: پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ صنعت اور تجارت کو فعال کیا جائے نہ کہ انہیں مالیاتی فیصلوں کے ذریعے مزید دباؤ میں لایا جائے۔

سلیم میمن نے اعادہ کیا کہ حیدرآباد چیمبر چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں کی آواز ہر سطح پر بلند کرتا رہے گا تاکہ ملکی معیشت کو پیداواری بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔

انسانی حقوق کی آواز بنیں!
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNWW) کی کوششوں کو سپورٹ کرنے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ مزید معلومات اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر وزٹ کریں:

سپورٹ لنک: HRNWW Support Page

اپنا تبصرہ بھیجیں