تاریخ انسانی کا بدترین ایٹمی سانحہ: چرنوبل حادثے کی 40 ویں برسی

ماسکو(ایچ آراین ڈبلیو) دنیا آج تاریخِ انسانی کے بدترین جوہری حادثے “چرنوبل” کی 40 ویں برسی منا رہی ہے۔ 26 اپریل 1986 کو سابق سوویت یونین (موجودہ یوکرین) میں واقع چرنوبل جوہری بجلی گھر میں ہونے والے خوفناک دھماکے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

حادثہ اور اس کے اثرات
سرکاری تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ انسانی غلطی کا نتیجہ تھا، جس کے باعث بجلی گھر کا ایک یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور فضا میں بڑی مقدار میں تابکار مادہ خارج ہوا۔ اس تابکاری نے نہ صرف یوکرین، روس اور بیلاروس کو متاثر کیا بلکہ یورپ کے کئی دوسرے علاقے بھی اس کی زد میں آئے۔

جانی نقصان: دھماکے کے فوری بعد 3 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 28 افراد اگلے تین ماہ کے اندر دم توڑ گئے۔ آنے والے سالوں میں امدادی کاموں میں حصہ لینے والے دسیوں ماہرین اور ہزاروں عام شہری کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہوئے۔

موجودہ صورتحال: چرنوبل بجلی گھر اگرچہ بند ہے، لیکن ری ایکٹروں سے ایندھن نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔ تباہ شدہ یونٹ کو مستقل طور پر محفوظ بنانے کے لیے اس کے اوپر ایک دیوہیکل حفاظتی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

صدر پوتن کا خراجِ عقیدت اور عوامی رائے
روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس موقع پر اپنے پیغام میں حادثے کے اثرات کو دور کرنے والے ماہرین کی دلیری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کی بدولت ہی اس تباہی کے نتائج کو کم کرنا ممکن ہوا۔

دوسری جانب ایک حالیہ رائے شماری کے مطابق:

73 فیصد روسی شہری جدید جوہری بجلی گھروں کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔

64 فیصد رائے دہندگان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور کے روس میں چرنوبل جیسا حادثہ اب ناممکن ہے۔

انسانی حقوق کی آواز بنیں!
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNWW) کی کوششوں کو سپورٹ کرنے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ مزید معلومات اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر وزٹ کریں:

سپورٹ لنک: HRNWW Support Page

اپنا تبصرہ بھیجیں