**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے جبری مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور ماضی میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے مذاکرات نے صرف بداعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں، دباؤ اور ناکہ بندی کے ماحول میں مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
**اعتماد کی بحالی اور شرائط:**
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکہ مذاکرات کی بحالی میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے تمام رکاوٹیں دور کرنی ہوں گی اور ایران کی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔
صدر پزشکیان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی قوتوں کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
—
**اپیل برائے تعاون:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے والے دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کی حمایت کریں۔ آپ کے تعاون سے ہم سچائی کی ترویج اور مظلوموں کی آواز بننے کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


