واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت کی منتظر مبینہ 8 خواتین کو پھانسی نہ دے اور انہیں رہا کیا جائے، تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو سکے۔ ٹرمپ نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان خواتین کی رہائی انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ خواتین رواں سال کے آغاز میں ایران بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار کی گئی تھیں۔ گرفتار ہونے والی خواتین میں ایک 16 سالہ لڑکی اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق جن خواتین کے نام سامنے آئے ہیں ان میں بیتا ہمتی، ڈیانا طاہرآبادی، محبوبہ شعبانی، وینس حسینی نژاد، گلناز نراقی، غزال غلندری، پناہ موحدی اور انسیہ نجاتی شامل ہیں، تاہم بعض ناموں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
بیتا ہمتی پر دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار استعمال کرنے، احتجاج میں شرکت اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں اپنے شوہر اور دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں سزائے موت سنائی گئی۔اسی طرح 16 سالہ ڈیانا طاہرآبادی پر “خدا کے خلاف جنگ” (محاربہ) کا الزام لگایا گیا، جو ایران میں سزائے موت کے زمرے میں آتا ہے۔ محبوبہ شعبانی پر الزام ہے کہ انہوں نے زخمی مظاہرین کی طبی امداد کی، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
وینس حسینی نژاد کو جنوری میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق انہیں سرکاری ٹی وی پر اعترافِ جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ گلناز نراقی، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، کو بھی گرفتار کر کے مبینہ طور پر زبردستی اعترافی بیان پر دستخط کروائے گئے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ان مقدمات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مقدمات میں شفافیت کا فقدان ہے اور جبری اعترافات جیسے سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو سخت سزائیں بھی سنائی گئیں، جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل اور تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔


