ملک بالخصوص کراچی کے لیے خطرے کی گھنٹی؛ ’سُپر الینو‘ کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)** محکمہ موسمیات نے پاکستان بالخصوص کراچی کے لیے ایک سنگین موسمی انتباہ جاری کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بحرِ الکاہل میں پیدا ہونے والا موسمیاتی رجحان ‘الینو’ اب ‘سُپر الینو’ میں تبدیل ہونے کے قریب ہے، جو خطے میں شدید موسمی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

**سُپر الینو کیا ہے؟**
سُپر الینو اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب بحرِ الکاہل کے پانی کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ حرارت عالمی سطح پر ہواؤں کے رخ اور موسم کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ کراچی جیسے ساحلی شہروں کے لیے اس کا مطلب مون سون کے پیٹرنز میں تبدیلی، درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ اور سمندری طوفانوں کے بدلتے ہوئے رجحانات ہیں۔

**ماہرین کی رائے اور پیش گوئی:**
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات، **انجم ضیغم** کے مطابق:
* **تبدیلی کا وقت:** رواں سال اگست اور ستمبر کے دوران الینو، ‘سُپر الینو’ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
* **درجہ حرارت میں اضافہ:** اس کے اثرات سے کراچی میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت (Feel-like temperature) اصل درجہ حرارت سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
* **طویل مدتی خطرات:** یہ موسمیاتی نظام نہ صرف رواں سال بلکہ **2027** تک شدید ہیٹ ویوز اور خشک سالی کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

**کراچی پر اثرات:**
کراچی میں حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی تپش اور ہیٹ ویوز پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہیں، تاہم سُپر الینو کی وجہ سے مون سون کی بارشوں میں کمی یا غیر متوقع تبدیلیوں کا خدشہ ہے، جس سے پانی کی قلت اور زرعی نقصانات ہو سکتے ہیں۔

**احتیاطی تدابیر:**
ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ان سنگین اثرات سے نمٹنے کے لیے ابھی سے حکمتِ عملی تیار کریں، تاکہ مستقبل میں ہیٹ ویوز اور خشک سالی سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔

انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں