**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی (میٹرک بورڈ) میں امتحانی مراکز کے قیام، تبدیلی اور اس میں مبینہ بدعنوانی کے سنگین الزامات پر صوبائی حکومت نے سخت ایکشن لے لیا ہے۔ صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کی ہدایت پر محکمہ جامعات نے ایک اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
—
### **کمیٹی کی ساخت اور ٹائم فریم**
* **کنوینر:** اسپیشل سیکریٹری، محکمہ جامعات و بورڈز۔
* **ممبران:** چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ اور ایڈیشنل سیکریٹری (بورڈز)۔
* **ڈیڈ لائن:** کمیٹی اپنی تحقیقات 15 روز کے اندر مکمل کر کے رپورٹ صوبائی وزیر کو پیش کرے گی۔
—
### **تحقیقات کے اہم نکات**
صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو کے مطابق، کمیٹی درج ذیل پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی:
1. **تبدیلیِ مراکز کی وجوہات:** امتحانات سے قبل یا دورانِ امتحان مراکز تبدیل کرنے کے پیچھے چھپے اصل محرکات کا تعین۔
2. **غیر قانونی اثر و رسوخ:** کیا مراکز کی الاٹمنٹ میں مالی مفادات، اقربا پروری یا غیر قانونی دباؤ شامل تھا؟
3. **اختیارات کا ناجائز استعمال:** بورڈ حکام کی جانب سے مبینہ ملی بھگت اور بے ضابطگیوں کی باریک بینی سے جانچ۔
4. **ذمہ داران کا تعین:** انکوائری کمیٹی اس گھناؤنے عمل میں ملوث افسران اور ملازمین کی نشاندہی کرے گی۔
—
### **صوبائی وزیر کا انتباہ**
محمد اسماعیل راہو نے واضح کیا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ تحقیقات میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی افسر یا ملازم کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔
**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


