**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور ان کی معاونت کرنے والے نادرا افسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائیاں شہر کے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی گئیں۔
### **کارروائی کی تفصیلات اور گرفتاریاں**
ایف آئی اے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ:
* **پہلا چھاپہ (میٹروول/اورنگی):** سائٹ ایریا اورنگی کے علاقے میٹروول میں چھاپہ مار کر دو افغان شہریوں، **حبیب اللہ اور نعمت اللہ** کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی پاکستانی شناختی دستاویزات برآمد ہوئیں۔
* **نادرا افسر کا ملوث ہونا:** ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ان غیر قانونی دستاویزات کی منظوری میں نادرا کا ایک افسر ملوث تھا۔
* **دوسرا چھاپہ (نرسری):** ایف آئی اے نے دوسری کارروائی نرسری کے علاقے میں کی، جہاں سے نادرا کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ **فرقان احمد خان درانی** کو گرفتار کر لیا گیا۔ مذکورہ افسر پر الزام ہے کہ اس نے ضابطے کے خلاف افغان شہریوں کے شناختی کارڈز کی منظوری دی۔
### **قانونی چارہ جوئی**
* **مقدمہ درج:** ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر **122/2026** درج کر لیا ہے۔
* **دفعات:** ملزمان کے خلاف **فارنرز ایکٹ 1946** اور **پی سی اے 1947 (پری وینشن آف کرپشن ایکٹ)** کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
* **ریمانڈ:** عدالت سے گرفتار ملزمان کا **تین روزہ جسمانی ریمانڈ** حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد اور نادرا کے مزید اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قومی سلامتی سے جڑے اس حساس معاملے کی مکمل بیخ کنی کی جا سکے۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) پر ہم قومی سلامتی اور کرپشن کے خلاف اداروں کی کارروائیوں کی مستند کوریج فراہم کرتے ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی سپورٹ کریں: [www.hrnww.com/?page\_id=1083]


