لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)شمالی کوریا سے متعلق آئی ٹی ورکرز کو جعلی دستاویزات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار تین ملزمان عالیہ بتول، سہیل اور صغیر کے خلاف مقدمے میں عدالت نے انسداد دہشتگردی کی دفعات خارج کر دیں۔
عدالت نے مقدمے کو مالی جرائم اور فراڈ کی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو کیس سیشن عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ وکلاء کے مطابق استغاثہ نے نہ تو شکایت کنندہ غیر ملکی ادارے یا فرد کو مدعی بنایا اور نہ ہی کسی دستاویزی شواہد، مالی لین دین کے ریکارڈ یا ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ پیش کی۔
وکیل صفائی نے بتایا کہ استغاثہ کسی غیر ملکی شہری، آئی ٹی ورکر یا مبینہ متاثرہ فرد کی شناخت، مقام یا تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہا، اور ریکارڈ پر کالعدم تنظیم یا اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کسی فرد یا ادارے کا نام بھی سامنے نہیں آیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ملزمان کے موبائل فون سے کوئی قابل ذکر شواہد برآمد نہیں ہوئے اور معاملہ بظاہر فراڈ، جعلسازی اور مالی بے ضابطگیوں پر مبنی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر سنگین جرم دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا، اور مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی دفعات قابل اطلاق نہیں رہیں۔
یہ مقدمہ ایف آئی اے کاونٹر ٹیرارزم ونگ نے درج کیا تھا۔


