**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** نیپال میں تباہ کن سیلاب اور شدید بارشوں کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں متعدد عمارتیں اور گاڑیاں کئی فٹ ملبے تلے دب گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے سے **کروڑوں روپے مالیت کا سونا اور نقد رقم** بھی برآمد ہوئی ہے۔ حکام کی جانب سے برآمد ہونے والی قیمتی اشیا کو محفوظ تحویل میں لینے کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق **گلیشیئر پھٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب** کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر **955** ہوگئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ متعدد خاندان اپنے گھروں اور قیمتی سامان سے محروم ہوگئے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کو **بروقت امداد، محفوظ پناہ گاہ، خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات** کی فراہمی بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد امدادی کارروائیوں میں شفافیت اور تمام متاثرہ خاندانوں تک رسائی انتہائی اہم ہے۔
### HRNW Support Appeal
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** دنیا بھر میں انسانی حقوق، قدرتی آفات اور متاثرہ افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ہلاکتوں، نقصانات اور برآمد ہونے والی قیمتی اشیا سے متعلق اعداد و شمار متعلقہ حکام یا معتبر ذرائع کی جانب سے حتمی تصدیق کے تابع ہیں۔


