5

یاسین ملک کا اہلیہ مشعال ملک کے نام درد بھرا پیغام، نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کی خواہش ظاہر کردی

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین **یاسین ملک** سے منسوب ایک تازہ بیانِ حلفی نے ان کی طویل قید اور اہل خانہ سے جدائی کے انسانی پہلو کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مقیم جے کے ایل ایف رہنما **راجہ مظفر** نے یاسین ملک کے مبینہ 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی کے بعض حصے شیئر کیے ہیں، جو ان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق یاسین ملک نے اپنی والدہ، اہلیہ **مشعال ملک** اور بیٹی **رضیہ سلطانہ** سے متعلق انتہائی جذباتی اور درد بھرے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

### مشعال ملک کے نام پیغام

یاسین ملک سے منسوب بیان کے مطابق انہوں نے لکھا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنی اہلیہ کی آواز سننے یا فون اور ویڈیو کال کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی اہلیہ کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ملک ان کے حالات کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزاریں یا بیوہ کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔

بیان میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مشعال ملک **عزت اور امید کے ساتھ زندگی کا ایک نیا باب شروع کریں**۔ اسی تناظر میں انہوں نے اپنی اہلیہ کو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا ایک انتہائی تلخ فیصلہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔

### بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام جذباتی پیغام

یاسین ملک نے مبینہ طور پر اپنی 13 سالہ بیٹی **رضیہ سلطانہ** کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ طویل عرصے سے وہ اس کی آواز سننے سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے لکھا کہ جیل کی تنہائی میں ان کے پاس اپنی بیٹی کی ایک تصویر ہے اور اسی تصویر کے ذریعے وہ اسے اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی بیٹی کی خوشی، حفاظت اور روشن مستقبل کے لیے دعا کرتے ہیں۔

یاسین ملک نے اپنی بیٹی کو اپنی دادی، یعنی یاسین ملک کی والدہ، سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت بھی کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے رضیہ سے کہا کہ وہ روزانہ کم از کم چند منٹ اپنی دادی کو فون کرے تاکہ اس مشکل وقت میں انہیں اپنی پوتی کی محبت اور سہارا ملتا رہے۔

یاسین ملک اور ان کے خاندان کی طویل جدائی کے حوالے سے ماضی میں بھی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ 2024 میں مشعال ملک نے اپنی بیٹی کے ہمراہ یاسین ملک سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ 2023 میں مشعال ملک اور رضیہ سلطانہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے یاسین ملک کو پھانسی سے بچانے کی اپیل بھی کی تھی۔

### بیان کو آخری مؤقف قرار دینے کا دعویٰ

دستیاب رپورٹ کے مطابق یاسین ملک نے اپنے بیانِ حلفی کو محض رحم یا ہمدردی کی اپیل کے بجائے اپنے **”ضمیر کا آخری بیان”** قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یاسین ملک نے اپنے مقدمے اور مستقبل کے حوالے سے اپنے مذہبی عقیدے اور استخارہ کا حوالہ دیا ہے۔

یاسین ملک کی طویل قید اور ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی انسانی حقوق اور منصفانہ قانونی عمل کے حوالے سے بھی مسلسل بحث کا موضوع رہی ہے۔ تاہم ان کے مقدمے میں قانونی الزامات اور عدالتی نتائج کو سیاسی دعوؤں سے الگ رکھتے ہوئے عدالت کے حتمی فیصلوں کی روشنی میں دیکھا جانا ضروری ہے۔

### انسانی حقوق کا پہلو

طویل عرصے تک قید افراد اور ان کے اہل خانہ کے درمیان رابطے، ملاقات اور خاندانی تعلقات انسانی حقوق کے اہم پہلو ہیں۔ ایسے معاملات میں قیدی کے قانونی حقوق، خاندان سے رابطے اور منصفانہ عدالتی عمل کو یقینی بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

### HRNW Support Appeal

**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** انسانی حقوق، قیدیوں کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

یہ خبر یاسین ملک سے منسوب بیانِ حلفی کے دستیاب حصوں اور اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اصل 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی کا مکمل سرکاری عدالتی متن دستیاب نہ ہونے کے باعث اس میں شامل ذاتی اور قانونی دعووں کو منسوب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یاسین ملک کے خلاف مقدمات میں عائد الزامات اور قانونی کارروائی کو متعلقہ عدالتوں کے حتمی فیصلوں کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں