اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے خلاف اپیلیں یکسر مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ نے کی۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کی اہم نکات درج ذیل ہیں:
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی اور بنیادی حقوق کے عین مطابق ہے۔
وکلاء تنظیموں کا کسی بھی وکیل کو کیس لینے سے روکنا ملزم کے آئینی و بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
ہڑتال میں پیشی نہ کرنے والے یا قرارداد کے منافی کیس لینے والے وکلاء کے خلاف کارروائی قانون اور آئین کے خلاف ہے۔
پروفیشنل وکلاء کو ہڑتال یا قرارداد کی بنیاد پر کام سے روکنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
وکلاء تنظیموں کی طرف سے عدالتوں کی بائیکاٹ اور ہڑتال غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
وکلاء تنظیموں کے پاس ایسے حالات میں وکلاء کے خلاف کارروائی یا لائسنس معطل کرنے کا اختیار نہیں۔
وکلاء کی ہڑتال عوام اور سائلین کے قانونی و آئینی حقوق پر ڈاکہ کے مترادف ہے۔
خیبر پختونخوا کی عدالتوں پر روزانہ انتظامی خرچہ 5 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے جو عوامی خزانے سے ادا ہوتا ہے، اور ہڑتال کے باعث یہ وسائل ضائع ہوتے ہیں۔
ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ صوبے کی تمام ماتحت عدالتوں کو بھیجا کہ وکلاء کی ہڑتال پر عدالتی کارروائی نہ روکی جائے۔
وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے غریب سائلین کے مقدمات التواء کا شکار ہو کر عدالتی کاروائی میں رکاوٹ بنتے ہیں، جو عوام کے آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ وکلاء تنظیمیں اپنے اراکین کے ذریعے عدالتوں کی کارروائی میں خلل ڈالنے یا کسی وکیل کے پیشہ ورانہ کام کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔


