**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** شہرِ قائد کے علاقے عزیز آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں ایک اور نئی مثال سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور مبینہ چشم پوشی پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
### **قوانین کی کھلی خلاف ورزی**
تفصیلات کے مطابق عزیز آباد **بلاک ٹو، پلاٹ نمبر 501** پر واقع ایک عمارت میں تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ مذکورہ پلاٹ پر گراؤنڈ پلس ٹو (**G+2**) کی اجازت کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مزید پورشنز اور چھ دکانیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔ دستیاب شواہد اور تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ صرف اضافی تعمیرات کی گئی ہیں بلکہ رہائشی پلاٹ پر کمرشل استعمال (دکانیں) بھی شروع کر دیا گیا ہے، جو کہ ایس بی سی اے (SBCA) کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
### **علاقہ مکینوں کا احتجاج اور سوالات**
علاقہ مکینوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری جانب ایسے منصوبے کھلے عام مکمل کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیرات آخر کس کی سرپرستی میں ہو رہی ہیں؟ اور متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر و دیگر ذمہ دار افسران ان خلاف ورزیوں پر کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟
### **اعلیٰ حکام سے اپیل**
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈر سمیت ان افسران کے خلاف بھی سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے جنہوں نے اس کی اجازت دی۔ علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ:
* مذکورہ غیر قانونی عمارت کو فوری طور پر **سیل** کیا جائے۔
* ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر **ایف آئی آر** درج کی جائے۔
* غیر قانونی طور پر قائم کی گئی دکانوں اور پورشنز کو مسمار کیا جائے۔
—
### **آزاد صحافت کا ساتھ دیں**
**ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (HRNW)** دنیا کا نمبر 1 انسانی حقوق کا نیوز پورٹل ہے، جو شہری حقوق کے تحفظ اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
👉 **[Support HRNW: hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**


