حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری سلیم میمن نے شہر میں صاف پانی اور سیوریج کے سنگین بحران پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ادارہ صاف پانی کی فراہمی سے لے کر گندے پانی کی نکاسی تک تمام سروسز فراہم کرنے میں بری طرح فیل ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست شہریوں اور تاجر برادری کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ غیر مؤثر اور غیر شفاف ہے۔ کارپوریشن کو ایک منظم نظام کے تحت چلانے کے بجائے ذاتی صوابدید پر چلایا جا رہا ہے۔ ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں، جبکہ شہر میں سینٹری ورکروں کی شدید کمی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ متعدد سینٹری ورکرز کو ڈیلی ویجز پر کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے لیکن زمینی سطح پر ان کی موجودگی نظر نہیں آتی۔صدر چیمبر نے کہا کہ بالخصوص لطیف آباد اور قاسم آباد کے شہری نجی سینٹری ورکرز سے کام کروانے پر مجبور ہیں، جو کہ متعلقہ ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حیدرآباد چیمبر پہلے بھی تجویز دے چکا ہے کہ یونین کونسل چیئرمینز کے ذریعے ایک مؤثر میکنزم بنایا جائے اور ہر یو سی کو کم از کم چار مستقل سینٹری ورکرز فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر صفائی اور سیوریج کے مسائل فوری حل ہو سکیں، مگر اس تجویز پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ واٹر سپلائی اور بلنگ کے حوالے سے بنائی گئی شکایاتی کمیٹی کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں کچھ سفارشات بھی مرتب کی گئیں اور ان میں حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے نمائندے کو بھی شامل کیا گیاتھا، لیکن افسوس کہ ان سفارشات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ اس کے بعد نہ کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلایا گیا اور نہ ہی کسی سفارش پر عمل کیا گیا۔ صدر چیمبرسلیم میمن نے کہا کہ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ایمرجنسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو فوری بنیادوں پر فنڈز جاری کر کے وقتی اقدامات کر لیے جاتے ہیں، مگر ادارے کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جاتی۔ سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے پیکجز اور اعلانات کے باوجود کارپوریشن اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر کی ہی ڈیمانڈ پر واساکو حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں تبدیل کیا گیا تاکہ مالی اور انتظامی معاملات میں بہتری آئے، مگر بدقسمتی سے ادارے کی کارکردگی پہلے سے بھی زیادہ ابتر نظر آ رہی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ اس ادارے کوسندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے طرز پر مکمل طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دے دیا جائے تاکہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر اس کا نظام چلایا جا سکے۔صدرچیمبر سلیم میمن نے کہا کہ مقدس مہینے رمضان المبارک میں صورتحال مزید تکلیف دہ ہو گئی ہے۔ سحر و افطار کے اوقات میں صاف پانی کی عدم دستیابی شہریوں کے لیے شدید اذیت کا باعث ہے۔ روزہ داروں کو آلودہ اور بدبودار پانی پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔صدر چیمبر نے وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے، ادارے کی مکمل آڈٹ کرانے، انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو تاجر برادری شہریوں کے ساتھ مل کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔


