**لاہور (ایچ آر این ڈبلیو)** – حکومتِ پنجاب نے غیر منقولہ جائیداد پر غیر قانونی قبضے کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد مالکانِ جائیداد کے حقوق کا فوری اور مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔
**🔹 سزا اور جرمانہ**
* اگر کوئی شخص غیر قانونی قبضہ واپس نہ کرے تو اسے جائیداد کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم ادا کرنے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔
* غیر قانونی قبضہ کرنے والے کو 5 سے 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
* ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
* قبضے میں معاونت کرنے والے افراد بھی اسی نوعیت کی سزا اور جرمانے کے مستحق ہوں گے۔
**🔹 ٹریبونل اور انتظامی کمیٹی**
* قانون کے تحت ایک خصوصی ٹریبونل قائم کیا جائے گا۔
* شکایات کی ابتدائی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں ڈی سی، ڈی پی او، اے سی، ڈی سی آر اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہوں گے۔
* یہ کمیٹی غیر قانونی قبضے کی شکایات وصول کرکے 30 دن کے اندر رپورٹ مرتب کرے گی۔
* اگر فریقین رضامند ہوں تو کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ٹریبونل سے فیصلہ حاصل کیا جا سکے گا۔
**🔹 ٹریبونل کے اختیارات**
* ٹریبونل کسی بھی جائیداد کے حوالے سے عبوری (Interim) آرڈر جاری کر سکتا ہے۔
* جائیداد کی مالیت کے مطابق رقم کی ادائیگی کا حکم دے سکتا ہے۔
* ٹریبونل روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
**🔹 دائرہ اختیار اور اپیل**
* اگر کوئی مقدمہ پہلے سے کسی عدالت یا ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہو تو درخواست گزار اسے اس ٹریبونل میں منتقل کروا سکتا ہے۔
* ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
* یہ قانون ان مقدمات پر لاگو نہیں ہوگا جو آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا لاہور ہائیکورٹ میں پہلے سے زیرِ سماعت ہوں۔
**🔹 مجموعی قانونی مقصد**
یہ ترمیمی آرڈیننس غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ مالکانِ جائیداد کو فوری ریلیف مل سکے اور عدالتی عمل میں تاخیر کم ہو۔
—
💬 **آزاد صحافت کی حمایت کریں:**
مستند قانونی اور ملکی خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
👉 [HRNW کی مدد کریں](https://hrnww.com/support-us)


