52

قومی وسائل کے استعمال پر سوالات: لگژری طیارے کی خریداری پر عوامی حلقوں میں تشویش

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)عوامی اور سماجی حلقوں میں قومی وسائل کے استعمال سے متعلق ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے پاس اس وقت تقریباً 30 ایسے طیارے موجود ہیں جو عام ٹرانسپورٹ اور سرکاری سفری مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں اعلیٰ شخصیات کے بیرونِ ملک دوروں کے لیے بھی انہی طیاروں کو بروئے کار لایا گیا، جن میں جنیوا، سوئٹزرلینڈ کے دورے بھی شامل رہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک مخصوص طیارے کے انٹیریئر میں تبدیلی پر قومی خزانے سے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے، تاہم اس کے باوجود اطمینان نہ ہونے پر بعد ازاں ایک نیا لگژری پرائیویٹ جیٹ خریدا گیا جس پر مبینہ طور پر 11 ارب روپے خرچ ہوئے۔

ناقدین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سنگین معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صحت، صاف پانی اور غذائی قلت جیسے بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب قومی قرض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں، ایسے میں حکومتی شخصیات کے لیے مہنگی سہولیات کی فراہمی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ ناقدین نے اس معاملے پر شفاف تحقیقات اور سرکاری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی سطح پر اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ عوام کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے اور قومی خزانے کے استعمال میں شفافیت ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں