**کراچی، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج اپنے وژن 2028ء کے ایجنڈے کے تحت ’’سائبر شیلڈ – زیرِ ضابطہ اداروں کے لیے سائبر پائیداری کی حکمتِ عملی‘‘ متعارف کرائی، جس کا مقصد ملک کے بینکاری اور مالی نظام کی حفاظت اور مضبوطی میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ حکمت عملی بینکوں اور مالی اداروں کو سائبر خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ عام صارفین اور کاروباری ادارے محفوظ طریقے سے مالی خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس کے تحت مالی اداروں کو ایک واضح روڈمیپ دیا گیا ہے تاکہ ان کے سسٹمز اور کنٹرولز کو مضبوط بنایا جا سکے، سائبر واقعات کی روک تھام ہو، کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جائے، اور ایسے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
بینکوں کے جدید سائبر ایکو سسٹم کے تناظر میں اس حکمت عملی کا مقصد زیرِ ضابطہ اداروں کے سائبر دفاع کو ایک اجتماعی، مستقبل بین اور مشترکہ نقطۂ نظر کے تحت مضبوط بنانا ہے۔ حکمت عملی میں پانچ اہم ترجیحات پر توجہ دی گئی ہے:
1. سائبر خطرات سے نمٹنے میں بینکوں کی صلاحیت کو بڑھانا
2. سائبر سیکورٹی کے نظم و نسق اور احتساب کو بہتر بنانا
3. مالی شعبے میں باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی
4. ماہر سائبر ٹیلنٹ کی تیاری
5. نئے خطرات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے سیکیورٹی طریقوں کو مسلسل جدید بنانا
اسٹیٹ بینک عالمی اور ملکی سائبر پیش رفت پر کڑی نظر رکھے گا اور ضرورت کے مطابق حکمت عملی کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ مقصد پورے بینکاری شعبے میں سائبر مضبوطی کو فروغ دینا، صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا، ڈیجیٹل جدت طرازی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا، اور مالی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کریں:
[https://www.sbp.org.pk/CRMD/2026/CL01.htm](https://www.sbp.org.pk/CRMD/2026/CL01.htm)
**آزاد اور ذمہ دار انسانی حقوق صحافت کی حمایت کریں۔**
وزٹ کریں: hrnww.com/support-us


