**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):**لاہور کے ایک نجی واٹر پارک میں 10 سالہ بچی **رامین فاطمہ** کی ہلاکت کے واقعے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ذمہ دار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بچی کی موت سوئمنگ پول کے قریب موجود کھلے **مین ہول** میں گرنے کے باعث ہوئی۔ حادثہ مبینہ طور پر مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی نہ لگنے کی وجہ سے پیش آیا۔
واقعے کے بعد تھانہ **باٹا پور** میں متاثرہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر **1564/26** درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی جمع کر لیے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد میں واٹر پارک کے مینیجر **ثناء اللہ**، سکیورٹی انچارج **نوید** اور سی سی ٹی وی کیمرہ انچارج **آصف** شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں غفلت اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تفتیش تمام پہلوؤں سے جاری ہے، جبکہ مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا ہے کہ واقعے میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور بچی کی موت کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔
لاہور پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، عوامی تحفظ، انصاف اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر پولیس ترجمان کے بیانات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آ سکتی ہیں۔ HRNW غیرجانبدارانہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


