74

کراچی بار کا تاریخی ریفرنڈم: سندھ بار کی رٹ تسلیم کرنے سے انکار، نئے الیکشن کمیشن کا اعلان

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) کراچی بار ایسوسی ایشن میں جاری حالیہ بحران نے اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر لیا جب عامر وڑائچ گروپ کی جانب سے بلائے گئے جنرل باڈی اجلاس میں وکلاء نے ایک بڑے ریفرنڈم کے ذریعے سندھ بار اور پاکستان بار کونسل کے فیصلوں کو مسترد کر دیا۔

اجلاس میں موجود وکلاء کی بڑی تعداد نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ کراچی بار ایک تاریخی اور خودمختار ادارہ ہے، لہٰذا اس کے مستقبل کے فیصلے کسی بیرونی دباؤ کے بجائے وکلاء خود کریں گے۔ ریفرنڈم کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ وکلاء برادری سندھ بار کونسل کی جانب سے مداخلت کو قبول نہیں کرتی۔

کمیٹی کی بحالی: اجلاس میں پرانی منتخب کمیٹی کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم ان افراد کو اس سے باہر رکھا گیا ہے جو دوبارہ انتخابات (الیکشن رپیٹ) کی مہم چلا رہے ہیں۔

آزاد الیکشن کمیشن کی تشکیل: وکلاء نے سندھ بار کے مقرر کردہ الیکشن فریم ورک کو مسترد کرتے ہوئے اپنا آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ حق نواز ٹالپر اور ذوالفقار جلبانی کو نیا الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

انتخابات کی تاریخ: ریفرنڈم کے فیصلے کے مطابق کراچی بار کے سالانہ انتخابات اب 7 مارچ کو منعقد ہوں گے اور پولنگ اسی ہال میں ہوگی جہاں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔

کمیٹی ممبر کا استعفیٰ اور احتجاج
اجلاس کے دوران اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب سندھ بار کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی کے ایک اہم رکن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور جنرل باڈی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے عامر وڑائچ گروپ کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری جانب خالد ممتاز ایڈوکیٹ نے بھی اپنا موقف واضح کرتے ہوئے وکلاء کی خودمختاری پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں