کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)چند پاکستانی مسافر خواتین نے سری لنکا ایئرلائن کے عملے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا، الزام عائد کیا کہ بورڈنگ پاسز اور حراساں کرنے کا معاملہ پیش آیا۔
درخواست گزاروں کے مطابق، ایمیگریشن کلیئرنس کے بعد طیارے میں بیٹھنے کے بعد ایئرلائن کے عملے نے انہیں دھمکایا اور بورڈنگ پاسز پھاڑ دیے۔ مزید یہ کہ سامان زائد ہونے کا الزام لگا کر تمام مسافروں سے اضافی رقم وصول کی گئی، جس میں درخواست گزاروں کو 16 ہزار روپے ادا کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ کسی مسافر کو وصولی کی رسید فراہم نہیں کی گئی۔
بورڈنگ پاسز پھاڑنے کے بعد مسافروں کو طیارے سے اتار کر حبس بے جا میں رکھا گیا۔
ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں رجوع کرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر متاثرہ خواتین نے سیشن کورٹ ملیر میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے سول ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے کی ہدایت کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ درست نہیں اور ایئرلائن کے عملے کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔
عدالت نے اس سلسلے میں ایس ایس پی شرقی اور ایس ایچ او ایئرپورٹ کو 20 فروری کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔


