44

عمران خان کوآنکھوں کےماہرڈاکٹرزتک رسائی،بیٹوں سےرابطے کی سہولت دینے کا حکم دے دیا

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور اپنے بچوں سے رابطے کے لیے ٹیلی فونک سہولت فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، جس دوران عمران خان کی جیل میں حالت اور طبی سہولیات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی کی درخواست کی ہے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت اچھے موڈ میں ہے اور عمران خان کو اپنے بچوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں کوئی تضاد نہیں، اور عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں، کیونکہ صحت کے مسائل سب سے اہم ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر قیدی مطمئن نہ ہوں تو ریاست فوری اقدامات کرے گی۔

عدالت نے بچوں سے ٹیلی فون کالز کے معاملے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایشو اہم ہے اور حکومت پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے عمران خان کو ان کے بچوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت دینے کا بھی حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں