تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران نے ہمیشہ اپنے دشمن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے اور کسی بھی قسم کے مذاکرات میں ایک سرخ لکیر ہے۔
ایران کے میزائل کی اقسام اور ان کی حد (رینج) کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں بڑے پیمانے پر میزائلوں سے حملے کیے تھے۔
امریکی دفتر برائے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ایران کے پاس ہے جن کی رینج 2000 کلومیٹر تک محدود رکھی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے ماضی میں اس بارے میں کہا تھا کہ یہ ملک کے دفاع کیلیے کافی ہے کیونکہ اسرائیل کو باآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے میزائلوں کے بہت سے مراکز دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں واقع ہیں۔ مختلف صوبوں بشمول کرمانشاہ اور سمنان کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے کے قریب کم از کم پانچ زیر زمین ’میزائل شہر‘ موجود ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق ایران کے پاس متعدد ایسے طویل فاصلے کے میزائل شامل ہیں جو اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں:
سجیل (2000 کلومیٹر)
عمار (1700 کلومیٹر)
قدر (2000 کلومیٹر)
شہاب-3 (1300 کلومیٹر)
خرم شہر (2000 کلومیٹر)
ہوئیزہ (1350 کلومیٹر)
اپریل 2025 میں ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ISNA نے ایک گرافک شائع کیا تھا جس میں 9 ایرانی میزائلوں کی نشاندہی کی گئی جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں سجیل شامل ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ 17000 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج 2500 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ خیبر (2000 کلومیٹر) اور حاج قاسم (1,400 کلومیٹر) بھی اس فہرست کا حصہ ہے۔


