3

جماعت اسلامی نے آئینی تحفظ تحریک کی اے پی سی کی دعوت قبول کرلی، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی مخالفت کا اعلان

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو):**جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین معطل کرنے کے کسی اقدام کی مخالفت کرے گی۔

اسلام آباد میں تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی، امن و امان اور معاشی صورتحال سمیت مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمٰن، لیاقت بلوچ اور دیگر رہنما موجود تھے۔

ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اے پی سی کا مقصد ملک میں امن و امان اور معاشی صورتحال سمیت قومی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں اور سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی اے پی سی میں شرکت کرے گی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی یا آئین معطل کرنے کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مذاکرات پر بھی زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی عمل کی بحالی کے لیے ہونے والی کوششوں میں جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان رابطے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کے لیے بغیر پیشگی شرط کے جا رہی ہے اور حکومت کا مؤقف پہلے سنا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن اپنی بات رکھے گی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل حکومت کے رویے اور مذاکرات کی پیش رفت سے منسلک ہے۔

بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون کیا گیا ہے اور آئندہ بھی تعاون جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق الگ مؤقف سامنے آیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی شروع ہو چکے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ سے متعلق اپنا مؤقف برقرار رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان پر بھی غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، کسی بھی غیر معمولی انتظامی یا آئینی اقدام اور سیاسی احتجاج کے اثرات براہِ راست شہریوں کی زندگی، بنیادی حقوق، نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑ سکتے ہیں۔

سیاسی اختلافات کو آئینی اور پُرامن طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا، پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے قانونی حقوق کا احترام کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں شفافیت برقرار رکھنا عوامی مفاد کے اہم تقاضے ہیں۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور حقائق پر مبنی آزاد صحافت کو جاری رکھنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

**HRNW Support:**
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر دستیاب معتبر ذرائع اور متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کیے گئے سیاسی مؤقف متعلقہ شخصیات یا جماعتوں سے منسوب ہیں اور انہیں HRNW کی جانب سے کسی سیاسی فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مذاکرات، احتجاج یا ممکنہ آئینی اقدامات سے متعلق مستقبل کے فیصلے متعلقہ سیاسی اور آئینی عمل کے تابع ہیں۔

**اصل خبر:**
[ایکسپریس اردو — اصل خبر](https://www.express.pk/story/2835924/invitation-to-the-constitution-protection-movement-apc-accepted-will-oppose-governors-rule-or-a-state-of-emergency-hafiz-naeem-2835924/?utm_source=chatgpt.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں