3

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، 2 ہزار میرینز کی تعیناتی

**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت تقریباً 2 ہزار امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ اسی دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بڑے سپر ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں آگ لگنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا **یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ** اور **یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ**، جس کے ساتھ تقریباً 2 ہزار میرینز موجود ہیں، سان ڈیاگو سے روانہ ہوچکے ہیں۔

امریکی منصوبے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں مجموعی طور پر تین طیارہ بردار بحری جہاز اور دو لینڈنگ گروپس تعینات کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مکمل تعیناتی نومبر تک مکمل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل لگا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹس کے مطابق ٹینکر میں تقریباً 25 لاکھ بیرل تیل رکھنے کی گنجائش تھی۔

حکام کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں، تاہم ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی حکام نے واقعے کی ذمہ داری کسی ملک یا گروپ پر عائد نہیں کی۔ جہاز کا نام، پرچم اور کارگو کی تفصیلات بھی فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر برطانیہ میں ایک دوہری برطانوی-ایرانی شہریت رکھنے والے 25 سالہ شخص کو فیئر فورڈ ایئر بیس کے قریب پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے۔ برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق اس شخص کو دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل گرفتار کیے گئے پانچ افراد کو پولیس ضمانت پر رہا کیا جاچکا ہے۔

یمن میں بھی طائز کے محاذ پر حوثی گروپ اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کی اطلاعات ہیں۔ یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے اپنی پوزیشنیں برقرار رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متعدد سکیورٹی واقعات کا سامنا ہے۔ تاہم سپر ٹینکر پر حملے کے ذمہ دار کے بارے میں تاحال کوئی حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحری سکیورٹی کے واقعات سے سب سے زیادہ اثر عام شہریوں، بحری عملے اور خطے کی معاشی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس میں کسی بھی سکیورٹی واقعے کے عالمی سطح پر معاشی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

بحری جہازوں اور عملے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی فوجی کارروائی یا حملے کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات ضروری ہیں۔ غیرمصدقہ الزامات سے گریز اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دینا بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قانون کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے **ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** کی معاونت کریں۔

**HRNW Support:** https://www.hrnww.com/?page_id=1083

### Disclaimer

اس خبر میں فوجی تعیناتی، بحری واقعے، گرفتاریوں اور خطے میں جاری کشیدگی سے متعلق معلومات دستیاب رپورٹس اور متعلقہ حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکر کو نشانہ بنانے والے فریق کی حتمی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح جاری تحقیقات کے دوران کسی بھی فرد یا گروپ کے خلاف عائد الزامات کو حتمی جرم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں