4

حکومت نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، اپوزیشن مثبت رویہ اپنائے، طلال چوہدری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو):** وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن سے بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر، پارلیمنٹ اور کابینہ میں متعدد مواقع پر حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات سے انکار کیا گیا تھا۔

وزیر مملکت داخلہ کے مطابق سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن موجودہ موقع پر مثبت رویہ اپنائے گی۔

دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں شروع ہوچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر حکومتی و اتحادی نمائندے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنما مذاکرات میں شریک ہیں۔

مذاکرات میں ملک کی سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا میں امن و امان اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ سمیت دیگر امور زیرِ بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور آئینی و پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا جمہوری عمل کا اہم حصہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے سیاسی مکالمے میں عوامی مسائل، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو ترجیح دینا عوامی مفاد کے لیے اہم ہے۔

احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہریوں کے پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے حقوق کا احترام، جبکہ امن و امان اور عام شہریوں کی آمدورفت کا تحفظ بھی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے **ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** کی معاونت کریں۔

**HRNW Support:** https://www.hrnww.com/?page_id=1083

### Disclaimer

اس خبر میں سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سیاسی مذاکرات اور متعلقہ معاملات میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے حتمی نتائج کے لیے آئندہ سرکاری اعلانات اور مذاکراتی پیش رفت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں