51

مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن،مولانا محمد حنیف جالندھری اور مولانا فضل الرحمن کے نام صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کا مکتوب

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) 22دسمبر2025؁ء کوان کی میزبانی میں مجلس اتحاد امت کے تحت تمام مکاتب فکر کے علماء اور دینی جماعتوں کے نمائندہ اجتماع میں جودس نکاتی اعلامیہ منظور کیاگیا تھا اس کی کسی بھی شق پر حکمرانوں نے ہنوز عمل نہیں کیابالخصوص اس اعلامیہ کی آخری دسویں شق میں حکومت سے ایک اہم مطالبہ کیا گیا تھا کہ ”وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے امن افواج بھیجنے سے گریز کرے“ لیکن ٹرمپ کی طرف سے ”غزہ بورڈپیس“میں شمولیت کی دعوت حکومت پاکستان نے قبول کر کے بورڈ کے ہر فیصلہ پر عملدرآمدکا اپنے آپ پابند کرلیا ہے جس میں سرفہرست حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے افواج بھیجنے کا معاملہ بھی ہے جس سے حکومت پاکستان کا اب انکار ممکن نہیں رہا اور اسکے متعلق بورڈ کے سرپرست ٹرمپ کا کہناہے کہ حماس نے اگر غیر مسلح ہونے سے انکا ر کیا تو اس کو تباہ کردیا جائے گا۔جبکہ مجلس اتحاد امت کے اعلامیہ کے مطابق آزادی فلسطین کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنے کا تصور بھی قوم کیلئے ناممکن ہے بہر حال یہ صورتحال قوم کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح اعلامیہ کے اندر ملک میں مسلح کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ”ان سازشوں کو ختم کرنے کیلئے جائز مطالبات پر عمل کرے اور مسئلہ کو حکمت و تدبر کے ذریعہ حل کیا جائے اور پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت مل بیٹھے اور مزید کسی نقصان کے بغیرمسائل کا مثبت اور قابل عمل حل نکالے“ لیکن افسوس اس پر بھی ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ ملک کی سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جس میں ان اہم اعلامیہ کی تجاویز پر عمل درآمد سے ہی ملک کی سا لمیت کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔آخر میں انہوں نیکہا کہ اگر حکمراں اعلامیہ کے تجاویز پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کیلئے کمربستہ ہو گئے ہیں توپوری قوم کی نظریں مجلس اتحاد امت پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ آئندہ کیلئے قوم کو کیا لائحہ عمل دیتی ہے۔؟

اپنا تبصرہ بھیجیں