کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اسٹیبلشمنٹ اور ریاست سے کراچی کو فوری طور پر وفاق کا حصہ بنانے کا ایک انتہائی بڑا اور سنگین مطالبہ کر دیا ہے۔ کراچی میں ایک تند و تیز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کراچی اب موجودہ بدترین ایڈمنسٹریشن کے حوالے رہنے کا ایک دن بھی متحمل نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس شہر کو وفاقی دارالحکومت کا حصہ بنایا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے 18ویں ترمیم کو ملک کے لیے “ناسور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم ہماری نسل کشی کر رہی ہے اور اس نام نہاد آئینی ترمیم کا ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے کیونکہ اس میں دیے گئے اختیارات عوام کی فلاح کے بجائے ان کی بربادی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں ریاست سے سوال کیا کہ کراچی کے لوگ آخر کتنے حادثات اور لاشیں برداشت کریں، کتنے معصوم بچے گٹروں میں گر کر مریں گے اور کتنے لوگ زندہ جلیں گے؟ انہوں نے سندھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پچھلے 18 سال سے حکمرانی کرنے والے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ماضی کے واقعات اور بھتہ خوری کا سہارا لیتے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست مداخلت کرے کیونکہ یہ لوگ کسی صورت سدھرنے والے نہیں ہیں۔
70


