65

تھانہ ابراہیم حیدری: عوام کے اعتماد سے خوف کی علامت تک ایک لمحۂ فکریہ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)تھانہ ابراہیم حیدری جوکبھی علاقےکےعوام کےلیےتحفظ اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا آج بدقسمتی سے خوف جبراورمبینہ کرپشن کی علامت بنتاجا رہا ہےحالیہ دنوں میں خصوصاً نئے سال (ہیپی نیو ایئر) کی رات اور اس سے قبل پیش آنے والے متعدد واقعات نےعلاقےکےمکینوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ ابراہیم حیدری میں تعینات عملہ اور نام نہاد “اسپیشل پارٹی” کے اہلکار بلا امتیاز کارروائیاں کرتے نظر آتے ہیں جس بے گناہ کو چاہا جاتا ہے اسے اسپیشل پارٹی کے نام پر اٹھا لیا جاتا ہے بعد ازاں پیسوں کی مبینہ توڑ جوڑ کے ذریعے رہا کر دیا جاتا ہے جبکہ کئی کم سن اور غریب نوجوانوں کو مختلف جھوٹے مقدمات میں نامزد کر کےان کامستقبل داؤپرلگا دیا جاتا ہےعلاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ اگرکوئی ملزم واقعی جرم میں ملوث ہو اس کی گرفتاری اور قانونی کارروائی قابلِ فہم ہےمگربغیرکسی ٹھوس شواہد برآمدگی یا قانونی تقاضوں کے بے گناہوں کو ہراساں کرنا ایک سنگین انسانی اور قانونی المیہ ہے ذرائع کےمطابق ایسےکئی کیسزسامنےآ چکےہیں جہاں صرف غربت اوربےبسی کی بنیاد پرافراد کونشانہ بنایا گیا-

مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ تھانے کی حدود میں منشیات خصوصاً گھٹکے جیسے مضر صحت نشے پابندی کے باوجود کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس غیر قانونی دھندے سے ہفتہ وار بارہ سے پندرہ لاکھ روپے تک کی مبینہ وصولی کی جاتی ہے جس میں ایس ایچ او یا ان کے قریبی اہلکاروں کی سرپرستی شامل بتائی جاتی ہے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر بے خوف گھومتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بے گناہ شہری مختلف مقدمات میں نامزد ہو کر ذہنی اذیت مالی نقصان اور سماجی بدنامی کا شکار ہو رہے ہیں ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی اور بے گناہوں پر ظلم تھانے کے موجودہ طرزِ عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے-

اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ وہ ایس ایچ او جو ماضی میں ایک مثال سمجھے جاتے تھے آج مبینہ طور پر پیسوں کی چمک میں آ کر اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کر چکے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے اپنی مبینہ اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے اسپیشل پارٹی کو مکمل آزادی دے رکھی ہے جس کے نتیجے میں غریب اور کمزور طبقہ شدید ظلم و زیادتی کا شکار ہے عوامی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام آئی جی سندھ ڈی آئی جی ایسٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ ابراہیم حیدری کے معاملات کی فوری شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے تاکہ بے گناہوں کو انصاف اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے یہ صورتحال نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وقار کے لیے خطرہ ہے بلکہ ریاستی رٹ اور عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں