66

نوواردان جامعہ کے 75 ویں بیچ کا سلورجوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کےممتازفارغ التحصیل طلبہ کی انجمن یونی کیرئینزانٹرنیشنل،وائس چانسلرجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی،چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسرڈاکٹر طارق رفیع،روئسائے کلیہ جات،صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ،یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے صدرپروفیسر اعجاز احمد فاروقی،ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن،صدرانجمن اساتذہ غفران عالم، ممبر سنڈیکیٹ وسینٹ، عمائدین شہر، اساتذہ اور انتظامی عملے کی کثیرتعداد نے جمعرات کے روز جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے سلورجوبلی گیٹ پر نوواردان جامعہ کے 75 ویں بیچ کا پرتپاک استقبال کیا۔یوم جامعہ کی تقریب کاآغاز حفاظ کرام کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے پر داخلے سے قبل حفاظ کرام تلاوت قرآن فرماتے ہوئے جامعہ کراچی میں داخل ہوئے اوروہاں پر موجود تمام نوواردان جامعہ اور دیگر افراد کے ہمراہ جلوس کی شکل میں انتظامی عمارت تک گئے۔

ازاں بعد انتظامی عمارت کے پارکنگ گراؤنڈ میں پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے پروفیسرڈاکٹر طارق رفیع، پروفیسر ڈاکٹرخالد محمودعراقی،محمد احمد شاہ،پروفیسر اعجاز احمد فاروقی،ڈاکٹر سید سیف الرحمن،غفران عالم اور مشیر امورطلبہ ڈاکٹر نوشین رضا نے خطاب کیا۔تقریب میں ممبر سنڈیکیٹ وسینٹ،عمائدین شہر، اساتذہ، طلبہ ا ور غیر تدریسی عملے کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید عاصم علی نے انجام دیئے اور جامعہ کراچی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی اور یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی پاکستان کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نے اندرون و بیرونِ ملک بہت نام پیداکیاہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میڈیکل کے شعبے میں، جس کی بڑی وجہ میرٹ پر داخلہ ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی 50 فیصد سے زائد لڑکیاں عملی زندگی میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی نقصان بھی ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کریں۔

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اصل ہیرو ہمارے والدین ہیں جن کی محنت اور قربانیوں کی بدولت ہمیں اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی اپنے والدین کی امید ہیں، انہیں مایوس نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لڑکیوں میں تیزی سے تعلیمی اور بالخصوص اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اپنی قابلیت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی والدین کا سہارا بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو متعدد مسائل درپیش ہیں، مگر ان کا حل ہم سب کو مل کر نکالنا ہوگا، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان آج بھی تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پر مبنی معاشرے ہی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کو برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر خالدعراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی صرف ڈگری فراہم نہیں کرتی بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی ترقی اور نظریے پر بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہماری شناخت پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ جامعہ کراچی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اگر پورے ملک کی جامعات میں شائع ہونے والے تمام ریسرچ پیپرز کو یکجا کیا جائے تو بھی وہ جامعہ کراچی میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کے مقابلے میں کم ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے تک، بلکہ دورانِ تدریس ہی، طالب علم کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آتی ہے جسے نہ صرف وہ خود بلکہ اردگرد کے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ جامعہ کراچی صرف ڈگری نہیں دیتی بلکہ ایک مکمل شخ…

اپنا تبصرہ بھیجیں