حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے وزارتِ صنعت و تجارت، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2025-30 کے اسٹیک ہولڈرز مشاورتی اجلاس میں بذریعہ زوم شرکت کی۔ اجلاس میں چیمبر کے سیکریٹری جنرل فرقان بھی صدر کے ہمراہ موجود تھے۔
اجلاس کی صدارت وزارت کے ڈپٹی چیف (ٹریڈ پالیسی) عطااللہ نے کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹریڈ پالیسی) سارہ تصدق بھی موجود تھیں۔
صدر چیمبر سلیم میمن نے پاکستان، خصوصاً حیدرآباد کے تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش اہم تجارتی مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان کو محنت کا منافع بروقت نہیں ملتا، جس کی بنیادی وجہ حکومتی اور بینکاری نظام میں پیچیدگیاں ہیں۔ ریفنڈز اور ادائیگیوں میں تاخیر کاروباری حوصلے کو متاثر کرتی ہے اور برآمدات میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک مؤثر اور تیز میکانزم بنایا جائے تاکہ برآمدی لین دین فوری اور آسان ہو۔
محمد سلیم میمن نے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی معیار مصنوعات کی افریقی ممالک اور مصر میں برآمد کی صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ویزا پالیسی میں سہولت اور بیرونی مارکیٹس تک آسان رسائی برآمدات کو فروغ دے سکتی ہے۔ انہوں نے توانائی کی بلند قیمتوں کو بھی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی کے بغیر پاکستان عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کے ساتھ مسابقت نہیں کر سکتا۔
اجلاس میں ڈپٹی چیف (ٹریڈ پالیسی) عطااللہ نے حیدرآباد چیمبر کی تجاویز کو سراہا اور یقین دلایا کہ چیمبر کی سفارشات کو قومی سطح کی پالیسیوں میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے صرف چھ تجارتی ادارے مشاورتی عمل میں شامل تھے، جس میں حیدرآباد چیمبر بھی شامل ہے، جو چیمبر کی قومی سطح پر مؤثر اور سنجیدہ شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر چیمبر محمد سلیم میمن نے وزارتِ صنعت و تجارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد چیمبر ملک کی برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔


