کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ناظم آباد نمبر 3، پلاٹ نمبر 8/4، بلاک 3B میں غیر قانونی تعمیرات ایک بار پھر سر اٹھا گئی ہیں، جبکہ علاقے کے مکینوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے مبینہ طور پر ڈیمولیشن کے بعد بلڈر کو دوبارہ تعمیر کی اجازت دے دی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق تصاویر اور معائنہ سے معلوم ہوا کہ نام نہاد ڈیمولیشن کے باوجود عمارت پر دوبارہ تیزی سے کام شروع ہو گیا ہے، بانس اور گرین نیٹ کے ذریعے اضافی فلور کی تیاری جاری ہے، اور اطراف کی بجلی و دیگر سروس لائنوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مکینوں نے سوال کیا کہ اگر یہ واقعی ڈیمولیشن تھی تو دوبارہ تعمیر کی اجازت کیسے دی گئی؟ اور کیا بلڈر اتنا بااثر ہے کہ ایس بی سی اے کے افسران بھی بے بس نظر آتے ہیں؟
علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بلڈر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے
ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران کے کردار کی انکوائری کی جائے
مکمل اور حقیقی ڈیمولیشن عمل میں لایا جائے
علاقے کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
عوامی اور سماجی حلقوں نے چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی، ڈی جی ایس بی سی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور شفاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


