کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں وفاقی وزیر صحت بنے چھ ماہ ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں انہیں متعدد نئے تجربات اور چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم وہ اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ آپ جس دور کی آج تعریف کر رہے ہیں، وہ تمام کام کسی کے مطالبے پر نہیں بلکہ فرض سمجھ کر کیے گئے تھے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ “جب لوگ رات کو سو رہے ہوتے تھے، میں شہر کی کسی سڑک پر جاگ رہا ہوتا تھا، یہ میری ڈیوٹی اور میرا کام تھا۔”
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ انہیں اس عہدے کو چھوڑے پندرہ سال ہو چکے ہیں اور اپنے ادوار میں انہوں نے کراچی پر تیس ہزار کروڑ روپے خرچ کیے، تاہم دشمن بھی ان پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کام تو ہوا ہوگا مگر پیسے بھی بنائے ہوں گے، مگر “میں نے اپنے بچوں کو کبھی ایک نوالہ حرام نہیں کھلایا۔”
انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں شہر میں اٹھارہ ٹاؤن تھے اور اگر وہ چاہتے تو ہر ٹاؤن میں ایک شادی ہال یا پیٹرول پمپ بنا سکتے تھے، مگر ایسا نہیں کیا کیونکہ ان کی سیاست کا مقصد ذاتی فائدہ نہیں بلکہ عوامی خدمت تھا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ “ہمارے ڈی این اے میں صرف اور صرف کام ہے” اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے کیے گئے ترقیاتی منصوبے مثال بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیانت داری اور خدمت ہی وہ اصول ہیں جن پر وہ کل بھی قائم تھے اور آج بھی ہیں۔


