کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) تعمیراتی قوانین کی عملداری کے لئے سرگرم ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اپیلٹ کمیٹی سے رکن اشفاق کھوکھر کو ہٹانے کے لئے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، سیکرٹری بلدیات پیار علی لاکھو اور ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کو خط لکھ دیا
خط میں کہا گیا ہے کہ اشفاق کھوکھر کے خلاف ذرائع آمدنی سے ہٹ کر اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں بنانے اور مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ضلع جنوبی میں کھربوں روپے مالیت کی غیرقانونی تعمیرات کرانے کے الزام ہیں
حال ہی میں ڈی جی ایس بی سی اے نے اشفاق کھوکھر کو ایک شوکاز لیٹر بھی جاری کیا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے باتھ آئی لینڈ میں غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کی ہے اور یہ کہ بلڈرز سے بھاری رشوت سندھ حکومت کے بڑوں کا نام استعمال کر کے لی ہے
خط میں ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے اپیلٹ کمیٹی کے 10 فروری کے فیصلہ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں درخواست گزار کی جانب سے وہ اپیلٹ کمیٹی میں 17 پلاٹوں کی شکایت لے کر پیش ہوئے جس میں نام نہاد سنوائی کے بعد 15 دن بعد فیصلہ دیا گیا کہ متعلقہ عملہ 45 دن میں تمام غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرے، لیکن چونکہ اشفاق کھوکھر خود ڈسٹرکٹ ساؤتھ کا ڈائریکٹر ہے اس لئے اس نے اپنے فرنٹ مین الطاف کھوکھر اور آفتاب زرداری کو انہدامی کارروائی کرنے سے منع کر دیا کیونکہ انہوں نے مل کر مبینہ طور پر کروڑوں روپے ان بلڈروں سے ڈکارے ہوئے تھے
خط کے مندرجات میں یہ بھی کہا گیا کہ اپیلٹ کمیٹی میں اشفاق کھوکھر جیسے افسر کی شمولیت خود اس کی شفافیت اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے کے لئے کافی ہے، اگر ادارہ اور صوبائی وزیر کرپشن کی پوروں میں ڈوبے اس ادارے کی ساکھ کی بحالی کے لئے سنجیدہ ہیں تو وہ پہلے اشفاق کھوکھرکو اس کمیٹی سے برطرف کریں اور پھر اس کمیٹی کو غیرجانبدار اور فعال بنانے کے لئے بلڈرز کی نمائندہ تنظیم آباد، پاکستان انجینئرنگ کونسل اور سول سوسائٹی سے ایک نمائندہ شامل کریں


