103

کراچی کے طلبہ کا مستقبل داؤ پر، MBBS داخلہ فہرست نے سنگین بے ضابطگیوں کا پول کھول دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی کے سرکاری تعلیمی بورڈ سے انٹر کرنے والے طلبہ ایک بار پھر میڈیکل کالجز میں داخلوں سے محروم رہ گئے۔ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے 3 دسمبر 2025 کو جاری کی گئی ایم بی بی ایس داخلہ فہرست نے شہر بھر میں شدید بے چینی پھیلا دی ہے، اور میرٹ سسٹم کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

داخلہ فہرست کے مطابق اس سال بھی بڑی تعداد میں ایسے امیدوار میرٹ پر آگئے جن کے انٹر کے نمبرز کراچی بورڈ کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں—ایسے نمبر جو کراچی کے امتحانی نظام میں ممکن ہی نہیں۔
رواں سال کراچی کا انٹر نتیجہ مجموعی طور پر کم رہا جبکہ MDCAT 2025 ملک کا سخت ترین امتحان قرار دیا گیا تھا، جس کے باعث کراچی کے حقیقی طلبہ میرٹ کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔

860 میں سے 500 سے زائد سیٹیں کراچی سے باہر کے امیدواروں کے نام

ایم بی بی ایس کی 860 سیٹوں میں سے 500 سے زیادہ بیرونی بورڈز کے طلبہ نے حاصل کر لیں۔
یہ عدم توازن کراچی کے ہزاروں طلبہ کی حق تلفی اور داخلہ سسٹم میں سنگین خامیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

جعلی ڈومیسائل اسکینڈل—کراچی کے حقوق پر ڈاکا

تحقیقات کے مطابق اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والے درجنوں امیدواروں نے جعلی کراچی ڈومیسائل بنوا کر کراچی کوٹے پر داخلے حاصل کیے۔
یہ نہ صرف کراچی کے طلبہ کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ داخلہ عمل میں کرپشن اور کمزور نگرانی کا کھلا ثبوت بھی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی داخلہ عمل میں شفافیت قائم رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اطلاعات کے مطابق:

سینکڑوں فارموں کی درست تصدیق نہیں کی گئی

ڈومیسائل ویریفکیشن میں سنگین غفلت

حیران کن طور پر کچھ ایسے امیدوار بھی پاس دکھائے گئے جنہوں نے MDCAT 2025 دیا ہی نہیں

ماہرین کے مطابق یہ تمام صورتحال ڈاؤ کی انتظامی نااہلی، کمزور مانیٹرنگ اور مبینہ کرپشن کا نتیجہ ہے۔

وفاقی و صوبائی صحت حکام کی مکمل ناکامی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر PMDC، داخلہ کمیٹیاں، ڈومیسائل بورڈز، اور وفاقی و صوبائی صحت حکام بروقت مداخلت کرتے تو یہ سنگین بے ضابطگیاں ممکن نہ ہوتیں۔
محکمہ صحت کی خاموشی اس مسئلے کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔

کراچی سے مینڈیٹ لینے والی سیاسی جماعتوں کی خاموشی افسوسناک

والدین اور طلبہ نے سوال اٹھایا ہے کہ:

“کراچی کے حقوق کا دعویٰ کرنے والی جماعتیں اس بنیادی مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟”

گزشتہ سال بھی یہی مسئلہ اٹھایا گیا تھا مگر کوئی عملی اصلاح نہیں کی گئی۔

طلبہ کی دہائی: ہمارا حق کون دلائے گا؟

کراچی کے متاثرہ طلبہ نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ اور PMDC سے فوری نوٹس لینے اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہر سال کراچی کے محنتی طلبہ ناانصافی کا شکار رہیں گے۔

کراچی کے والدین اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ داخلہ فہرست کی فوری ری چیکنگ، جعلی ڈومیسائل کی چھان بین اور شفاف میرٹ سسٹم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ شہر کے طلبہ کو ان کا جائز حق مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں