سوچیں اگر پلوٹو پر کوئی بچہ پیدا ہو جائے، تو وہ جب اپنی پہلی سالگرہ منائے گا، زمین پر 248 سال گزر چکے ہوں گے۔ یعنی جب وہ صرف “ایک سال” کا ہوگا، یہاں کئی نسلیں پیدا ہو کر زندگی گزار چکی ہوں گی۔ جب وہاں وہ بچہ ابھی تک چلنا سیکھ رہا ہوگا یہاں زمین پر شاید اُس وقت کے لوگ صرف تاریخ میں یاد کیے جا رہے ہوں گے۔
پلوٹو کا ایک سال، ہمارے 248 سال کے برابر ہے۔ یہ بات حیران کر دینے والی ہے کہ 1930 میں دریافت ہونے کے وقت سے لے کر آج تک وہ سورج کے گرد ایک چکر بھی مکمل نہیں کر سکا۔ زمین ہر سال سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے، لیکن پلوٹو بہت دور ہے اور بہت آہستہ چلتا ہے۔ اس لیے پلوٹو کو سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 248 زمینی سال لگتے ہیں۔یہ فرق ہمیں دکھاتا ہے کہ کائنات کتنی وسیع ہے، اور وہاں وقت بھی ہمارے جیسے نہیں چلتا۔ جہاں ہم ایک سال میں بہت کچھ بدلتے دیکھتے ہیں، وہاں پلوٹو پر ایک سال گزرنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ یہ ہمیں حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ ہم کتنی تیزی سے جیتے ہیں، اور کائنات کتنی خاموش اور سست روی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ نے پلوٹوکی جانب اپنا پہلا مشن 19 جنوری 2006 میں بھیجا تھا۔


