کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے رسوائے زمانہ مبینہ کرپٹ ترین افسران میں سے ایک اشفاق کھوکھر اور الطاف کھوکھر کی فرائض سے غفلت اور مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن کا ایک اس اسکینڈل منظر عام پر آ گیا
پلاٹ نمبر 1/6- LR-10 پر واقع شانزل فائن ٹاور پر قانونی تعمیراتی کی خلاف ورزیوں کا ڈھیر، بلڈنگ میں 102 فلیٹوں کی منظوری کے برخلاف 146 فلیٹس بنا دئیے، 1 دکان کی اجازت کی جگہ 8 دکانیں بنا دی گئیں
پہلے فلور پر 8 فلیٹس کی اجازت، بلڈر عمران کھوسو اور بلال نے 13 فلیٹس بنا ڈالے، اس بلڈنگ میں پارکنگ کی جگہ بھی دکانیں بنا دی گئیں، ائرریڈ شیلٹر اور ری کریشنل ایریا جو رہائشیوں کو فلاحی مقصد کے لئے دینا ضروری ہوتا ہے وہ بھی ہڑپ کر لیا
مذکورہ بلڈنگ پلنتھ سے لے کر ٹاپ روف تک تعمیراتی خلاف ورزیوں کو مرکز بن گئی، بلڈنگ مکمل ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایسا کمپلیشن پلان داخل کیا گیا ہے جس میں ہونے والی خلاف ورزیوں کو نہیں دکھایا گیا ہے
بغیراکوپنسی سرٹیفیکیٹ بلڈر نے الاٹیز کو قبضہ دینے شروع کر دیا ہے تاکہ بلڈنگ کو آباد کر کے کسی بھی کارروائی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا سکے-
اور آخر میں ان سب خلاف ضابطہ بلڈنگ اور تعمیرات کا علاج بلڈر نے ڈھونڈ لیا اور وہ “کھوکھر برادرز کرپشن کلینک” یعنی غیرقانونی تعمیرات کرکے جتنا زیادہ پیسہ کمایا ہے اس کا کم از کم 40 فیصد انہیں دے دیا جائے اور وہ خود یہ راستہ نکال کر معاملہ کو ڈبے میں بند کر دیں گے، آخر نیب نے اشفاق کھوکھر کی اربوں روپے کی کرپشن ایسے ہی تو نہیں پکڑی


