کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی معاشی حکمتِ عملی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ سرمایہ کاری کے غیر مستحکم ماحول کے باعث متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان سے اپنے آپریشنز محدوداور مکمل طور پر بند کر نا قابل تشویش ہے جو حکومتی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کا طوفان ویسے ہی نہیں تھم رہا، تعلیم یافتہ نوجوان اپنا مستقبل یہاں محفوظ نہیں سمجھتے اور لاکھوں کی تعداد میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، غیر مؤثر حکومتی پالیسیوں نے بے روزگاری کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ کردیا ہے، مہنگائی اور ٹیکسوں کے مسلسل اضافے نے عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہونے کے باعث ہزاروں افراد مسلسل بے روزگار ہورہے ہیں۔ایسے حالات میں عالمی کمپنیاں جس رفتار سے پاکستان چھوڑ رہی ہیں وہ صرف حکومتی ناکام معاشی حکمتِ عملی کا باعث ہے۔معاشی حکمت عملی، عدم تسلسل اور سرمایہ کاری کے لیے غیر سازگار ماحول نے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو محدود کیا ہے بلکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بری طرح مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آئی ایم ایف کے رحم کرم پر چھوڑنے کے بجائے فوری مستحکم معاشی حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ مذید اقتصادی بحران سے بچا جاسکے۔
77


