123

پاکستان میں 28ویں آئینی ترمیم اور 12 نئے صوبوں کے قیاس آرائیوں کی خبریں

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک میں 28ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں، جس کا مقصد انتظامی اصلاحات، اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی اور لوکل باڈیز کو مضبوط بنانا ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے تحت **نئے صوبے بنانے، مالی اور انتظامی اختیارات لوکل حکومتوں تک منتقل کرنے** اور صوبائی فنانس کمیشن کو آئینی تحفظ دینے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

غیر مصدقہ سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر ملک میں **12 نئے صوبے** بنائے جا سکتے ہیں جن میں شامل ہیں: **اسلام آباد، مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، کراچی، سندھ، مہران، بلوچستان، گوادر، خیبر، ہزاره** اور **آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان**۔ تاہم یہ اطلاعات فی الحال تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

حکومتی عہدیداروں، بشمول **وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ** اور **وزیر مملکت قانون بیرسٹر عقیل ملک** نے کہا کہ 28ویں ترمیم پر کام جاری ہے اور یہ **آرٹیکل 140، این ایف سی، تعلیم، آبادی اور لوکل باڈیز کے اختیارات** پر مرکوز ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیں تو یہ پاکستان میں **اختیارات کی نیچے کی سطح تک منتقلی اور بہتر انتظامی ڈھانچہ** کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

ابھی تک تمام معلومات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں