کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا افسر ارب پتی بھی ثابت ہو گیا، بے مثال کرپشن کے ماہر اشفاق حسین کھوکھر کے خلاف نیب بھی اتنے بھاری اثاثہ جات رکھنے پر متحرک ہو گیا،
نیب میں ہونے والی ترامیم کے بعد نیب صرف ان معاملات میں تحقیق کر سکتا ہے جس میں کرپشن کی مالیت 50 کروڑ سے زائد ہو اسل لئے نیب نے اشفاق کھوکھر کے آمدنی سے ہٹ کر ہونے والے اثاثوں کی مالیت 50 کروڑسے زائد ہونے پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے
قومی ادارہ احتساب نیب نے ڈائریکٹر ساوتھ اشفاق کھوکھر کو 17 فروری 2025ء کو مراسلہ نمبر 89 جاری کیا تھا۔ حیران کن طور پر یہ مراسلہ انتہائی خفیہ رکھا گیا، ایچ آراین ڈبلیو کے پاس تمام کاغذات کی نقول محفوظ ہیں
نیب کے مراسلے کے مطابق 19 گریڈ کے ڈائریکٹر ساوتھ اشفاق کھوکھر پر سنگین مالی بدعنوانی کے الزامات ہیں ، نیب کے مراسلے میں اشفاق کھوکھر کو بلڈر مافیا کا سہولت کار بھی کہا گیا ہے
مراسلے کے متن کے مطابق اشفاق کھوکھر کو غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں، مراسلے کے مطابق اشفاق کھوکھر کے پاس کروڑوں کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی گئی ہے۔
نیب کے مراسلے میں اشفاق کھوکھر کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک رقم منتقل کرکے بنگلے کی خریداری کرنے کا بھی پوچھا گیا ہے، ڈیفینس میں 1000گز اور باتھ آئی لینڈ میں فلیٹ کی ملکیت بھی تحریر ہے
حیدرآباد میں 6 کروڑ کا بنگلہ جبکہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں 30 کروڑ کا فارم ہاؤس کا بھی لکھا گیا ہے۔ جبکہ اشفاق کھوکھر کلفٹن میں واقع کریک وسٹا کے ایک لگژری فلیٹ میں رہائش رکھتے ہیں جس کی مالیت بھی 10 کروڑ کہی جاتی ہے
نیب کے لیٹر میں مہنگی لگژری گاڑیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، یہ وہ اثاثے ہیں جو اشفاق کھوکھر اور ان کی فیملی کے نام پر ہیں اس کے علاوہ قریبی دوستوں ، فرنٹ مین اور دیگر نامعلوم نام پر بھی بے نامی پراپرٹی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جسے فارنسک آڈٹ سے جانچ کیا جا سکتا ہے
نیب کے 17 فروری 2025ء مراسلہ نمبر 89 کے بعد ایک اور لیٹر کا اجراء کیا گیا، نیب نے 25 فروری 2025ء کو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اشفاق کھوکھر سے متعلق آگاہ کیا۔
نیب نے دونوں سینئر افسران کو اشفاق کھوکھر کے کیلئے اسکورٹنی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ اس اسکروٹنی کمیٹی کے فوکل پرسن عدیل احمد سوہو کی جانب سے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈی جی ایس بی سی اے کو لیٹر نمبر NO.SO(ACE-II)/E&ACE/54-178/2024 بتاریخ 25 فروری 2025 بھیجا گیا تھا جس میں دونوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی فائنڈنگ کمیٹی کو روانہ کریں، عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی
واضح رہے کہ کہ ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو نے بھی 28 مارچ کو اشفاق کھوکھر کو ایک شوکاز نوٹس بحوالہ لیٹر نمبر 585 جاری کیا، جس میں ان جواب طلب کیا گیا ہے کہ وہ کلفٹن بلاک 4 ای اسٹریٹ پر غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کرنے، بلڈرز سے بھاری رشوت لینا اور اس مال کو مزید موٹا کرنے کے لیے سندھ حکومت کے بڑوں کا نام استعمال کرنے کے الزام کا جواب دیں
دریں اثنا تعمیراتی قوانین کی عملدرآمد سرگرم عمل ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے ضلع جنوبی کے 25 پلاٹوں پر غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے ایک شکایت داخل کی تھی جس کی انکوائری اینٹی کرپشن کورٹ کی جانب سے نوٹس لینے پر شروع کی گئی
اینٹی کرپشن کی انکوائری بند کروانے کے لیے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر امتیاز الحق شیخ نے مبینہ طور پر 20 لاکھ روپے دیے۔ جس نئے اس انکوائری کو سرد خانے میں ڈال دیا اور سابقہ انویسٹی گیشن آفسر اپنا تبادلہ کراکے نکل گیا
اب موجودہ انکوائری افسر صبغت اللہ شیخ نے درخواست گزار ندیم احمد جمال کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اب اس میرٹ کے مطابق کارروائی کریں گے
مزید حیران کن صورتحال یہ ہے کہ ایس بی سی اے نے اشفاق کھوکھر کو غیرقانونی تعمیرات کے فیصلہ کرنے والی اپیلٹ کمیٹی کا رکن بھی بنایا ہوا ہے، یعنی ملزم ہی منصف بنا بیٹھا ہے
ندیم احمد جمال نے اس ضمن میں ڈی جی ایس بی سی اے سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ اس شخص کو کمیٹی سے برطرف کرکے ایک غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دیں جس میں چئیرمین علی مہدی کاظمی اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل شہزاد قریشی کے ساتھ ساتھ آباد، پاکستان انجنئیرنگ کونسل اور سول سوسائٹی کا نمائندہ بھی شامل کریں


