75

اڈیالہ میں ملاقات سے مسلسل انکار؛ وزیرِ اعلیٰ کی چھٹی بار واپسی—قوم سخت ردعمل کی منتظر

اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو) اڈیالہ جیل میں اپنے قائد سے ملاقات کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہونے پر سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی اور سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ تین مختلف عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود وزیرِ اعلیٰ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ آج بھی اڈیالہ جانے والے تمام راستے پولیس کی بھاری نفری سے بند رہے۔

ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ مسلسل چھٹی بار عدالت کے فیصلوں کے باوجود جیل انتظامیہ کی رکاوٹ کا سامنا کر کے واپس لوٹ گئے، جس پر سیاسی کارکنان اور عام شہری سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال یوں ہی دسویں بار بھی دہرائی گئی تو وزیرِ اعلیٰ کو قوم کے سامنے مستقبل کا واضح لائحۂ عمل پیش کرنا ہوگا، کیونکہ عوام محض بیانات سے آگے کوئی مضبوط قدم دیکھنا چاہتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ *”ہم اب قانون و انصاف کے اس ڈرامے سے تنگ آ چکے ہیں۔ احکامات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، جبکہ ردعمل صرف بیانات تک محدود ہے۔”*

سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کا مینڈیٹ صرف *اڈیالہ کے گیٹ تک جا کر واپس آ جانا* ہی ہے، تو پھر یہ قیادت نہیں بلکہ مجبوری ہے۔

عوامی رائے میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ قوم کو اب ایسی قیادت درکار ہے جو *دروازے بند ہونے پر صرف دستک نہ دے بلکہ دیوار توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو*۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خاموشی برقرار رہی تو تاریخ کے اوراق میں قصور صرف ظالموں کا نہیں بلکہ *”کچھ نہ کرنے والوں”* کا بھی لکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں