کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — سندھ کابینہ نے فضائی آلودگی اور عوامی صحت کے تحفظ کے پیشِ نظر صوبے بھر میں ٹائر پائرولیسز پلانٹس کے آپریشن پر مکمل پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی۔
فیصلے کے مطابق ان پلانٹس سے وابستہ کاروباری اداروں کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے آپریشنز کو مکمل طور پر بند کر سکیں۔
یہ فیصلہ سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی سفارش پر کیا گیا، جس نے رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ ٹائر پائرولیسز سرگرمیوں کے باعث کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کی فضاء زہریلی اور انسانی صحت کے لیے خطرناک بنتی جا رہی ہے۔
کابینہ نے مزید “سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (غیر معیاری فیول/ٹائرز کے استعمال کی روک تھام) رولز 2025” کی منظوری بھی دی، جو سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت نافذ کیا جائے گا۔
حکومتی ترجمان کے مطابق یہ اقدام غیر معیاری ایندھن، خصوصاً ٹائر پائرولیسز آئل کی پیداوار اور فروخت کے تدارک میں مددگار ثابت ہوگا اور ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو مؤثر طور پر روکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیپا حکام کو ہدایت دی ہے کہ پابندی کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہ برتی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت باسل کنونشن اور یونائیٹڈ نیشنز انوائرمنٹ پروگرام (UNEP) کے رہنما اصولوں کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیارات پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔


