50

آئی ایم ایف کا پاکستان پر ٹیکس وصولی میں خسارے پر اظہارِ تشویش

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے گزشتہ مالی سال کے دوران 12 ہزار 970 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پورا نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں سامنے آئی۔

پاکستانی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ ٹیکس وصولی اور مالی کارکردگی کے اعداد و شمار کا اشتراک کیا، جس پر عالمی ادارے نے ٹیکس ہدف میں خسارے پر تحفظات ظاہر کیے۔ حکومت کی جانب سے ہدف پورا نہ ہونے کی وجوہات میں مہنگائی میں کمی، معاشی سرگرمیوں کی سست روی اور عدالتی مقدمات کا التوا بتائی گئی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 250 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس کیسز التواء کا شکار رہے۔ گزشتہ مالی سال میں 12.9 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں محض 11.74 کھرب روپے ہی وصول کیے جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح کا 10.5 فیصد ہدف حاصل نہیں ہو سکا اور اس میں محض 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی کی وجہ سے غیر ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی سست روی کے باعث نئے ٹیکس اقدامات سے متوقع آمدنی حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ ٹیکس مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے موجودہ مالی سال کے پہلے سہ ماہی کے 3.1 ٹریلین روپے کے ہدف کے حصول کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ایف بی آر نے رواں مالی سال میں ہدف سے کم ٹیکس وصولی کی ایک بڑی وجہ حالیہ سیلاب کو قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں