اسلام آباد: (ایچ آراین ڈبلیو)صحافی **ثمینہ پاشا** نے عمران خان کی جیل میں صحت اور قید کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بیماری سے قبل جیل میں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
ثمینہ پاشا کے مطابق جیل حکام کی میڈیکل رپورٹ میں عمران خان کی قید کی صورتحال سے متعلق ایسے شواہد موجود ہیں جو ان کے بقول مکمل قیدِ تنہائی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو خاندان تک رسائی حاصل نہیں اور انہیں کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے قومی ہیرو ہیں اور ان کے ساتھ جیل میں ایسا سلوک کیا جانا باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک میں ہسپتالوں کے قیام سمیت عوامی فلاح کے لیے کام کیا ہے۔
ثمینہ پاشا نے مزید دعویٰ کیا کہ **9 ماہ کے دوران عمران خان کی اپنی فیملی سے ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی**، جسے انہوں نے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیا۔
انہوں نے موجودہ حکومت اور اس کے مبینہ حامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا مبینہ سلوک قابلِ مذمت اور شرمناک ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق، مناسب طبی سہولیات، اہلِ خانہ سے ملاقات اور قانونی حقوق کی فراہمی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔ کسی بھی زیرِ حراست شخص کی صحت اور قید کی صورتحال سے متعلق معاملات میں شفاف معلومات اور آزادانہ تصدیق عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
### HRNW سپورٹ اپیل
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، قیدیوں کے حقوق اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ HRNW کی آزادانہ صحافت اور عوامی خدمت کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔
[HRNW Support Appeal — تعاون کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### HRNW کا مؤقف
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** قیدیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اہم سمجھتا ہے۔ صحت، قیدِ تنہائی، اہلِ خانہ سے ملاقات اور دیگر سہولیات سے متعلق دعووں کی غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔
**Disclaimer:** یہ خبر ثمینہ پاشا کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قیدِ تنہائی، طبی رپورٹ اور اہلِ خانہ سے ملاقات سے متعلق دعوے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور جیل حکام کے مؤقف سے مزید تصدیق طلب ہیں۔


