لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)ایڈیشنل سیشن جج ریاض احمد نے پب جی گیم سے متاثر ہو کر اپنی والدہ، بھائی اور دو بہنوں کے قتل کے ملزم علی زین کو 100 سال قید کی سزا سناتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ “مجرم کی 25 سال سزا ختم ہونے پر اگلی 24 سال سزا شروع ہوگی۔”
سزا کی نوعیت:
13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ چار افراد کے قتل پر مجرم کو چار دفعہ عمر قید (25-25 سال) کی سزا سنائی گئی ہے، جو کل 100 سال بنتی ہے۔ سزائیں تسلسل سے جاری رہیں گی، جس کے تحت پہلی 25 سالہ سزا پوری ہونے پر اگلی سزا شروع ہوگی۔
واقعے کی تفصیلات:
فیصلے کے مطابق جنوری 2022 میں علی زین نے اپنی والدہ ناہید مبارک، بھائی تیمور سلطان اور بہنوں ماہ نور اور جنت فاطمہ کو قتل کیا تھا۔ ملزم سے واردات کے موقع پر استعمال ہونے والا پستول برآمد ہوا، جس پر اس کی انگلیوں کے نشانات ثابت ہوئے۔
ملزم کے دعوے مسترد:
عدالت نے ملزم کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ “تفتیشی ٹیم نے میری ماں کی پراپرٹی لینے کے لیے مجھے ملوث کیا”۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فرانزک ثبوتوں نے ملزم کی مجرمیت ثابت کی ہے۔
یہ فیصلہ اس نوعیت کے مقدمات میں ایک اہم قانونی مثال قائم کرتا ہے، جہاں ملزم نے مقدمے کے دوران تمام الزامات سے انکار کیا تھا۔


