46

پاکستان میں انقلاب کے سوا کوئی چارہ نہیں

لاڑکانہ(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما میر شاہد علی خان رند نے اپنے ہمسفر ساتھیوں کو موجودہ عدالتی حالات پر نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان میں انقلاب کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ ایک طرف سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ چلتا کیس اگر کوئی آئینی یا ریگولر کمیٹی واپس لے تو کیوں نہ ان کمیٹیوں میں شامل ججز کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔ اس سلسلے میں فل کورٹ کے سامنے یہ معاملہ رکھا جائے مگر انٹرا کورٹ اپیل کے فیصلہ میں جسٹس جمال مندوخیل نے یہ اصول طے کر دیا کہ ایک جج دوسرے جج کے خلاف کوئی کارروائی یا فیصلہ نہیں دے سکتا۔ یہ فیصلہ دراصل اس ضرورت کو پورا کرتا تھا کہ کہیں جسٹس منصور علی شاہ سسٹم کے من پسند ججز کے خلاف کوئی طاقتور فیصلہ نہ دے دیں۔ اس خطرے کو اسی فیصلے کے ذریعے ختم کروا دیا گیا

لیکن دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس سامنے آئی۔ وہاں مقتدرہ کے مفاد میں یہ ہوا کہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنی ہی ہائیکورٹ کے جج، جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف فیصلہ دیا اور ان سے جوڈیشل پاورز واپس لینے کا حکم سنا دیا۔ یوں ایک جج نے اپنے ہی جج کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا۔ اب یہاں مسئلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اصولی طور پر یہ طے کر چکی ہے کہ ایک جج اپنے ہی جج کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا، تو سرفراز ڈوگر کا فیصلہ اسی اصول کے مطابق غلط قرار پاتا ہے۔

یوں مقتدرہ ایک کشمکش میں پھنس گئی ہے کہ بچایا کس کو جائے؟ اگر سپریم کورٹ دونوں معاملات پر الگ الگ فیصلے دیدے تو ایک ہی نوعیت کے معاملات میں تضاد پیدا ہو جائے گا۔ اب سب کی نظریں اس پر ہیں کہ سپریم کورٹ آئینی طور پر کس اصول پر کھڑی ہوتی ہے۔ کیا وہ جسٹس سرفراز ڈوگر کے فیصلے کو برقرار رکھے گی یا پھر پہلے سے طے شدہ اصول کے مطابق اسی کو کالعدم قرار دے گی؟ یہ آئینی بنچ کا امتحان ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ مقتدرہ اپنی ضرورت کے مطابق کون سا راستہ نکالتی ہے اور سپریم کورٹ کو کس آئینی موشگافی میں ڈالتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں