اسلام آباد (27 مئی 2024) چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو عائشہ فاروق نے ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے اہم تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ٹیکس چوروں کی نشاندہی کرنے والے افراد کے انعام میں 30 گنا اضافہ کرتے ہوئے 50 لاکھ سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عائشہ فاروق کا کہنا ہے کہ “ملک میں امراء کا طرز زندگی ان کے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں سے میل نہیں کھاتا۔ لوگ قیمتی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے اور محل نما گھروں میں رہنے کے باوجود افسانوی گوشوارے پیش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ “منشی، ڈرائیور اور گھریلو ملازمین اپنے مالکان کے طرز زندگی سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ وسل بلوئنگ کو فروغ دینے کے لیے انعامی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا اور معلومات فراہم کرنے والوں کو مکمل قانونی تحفظ دینا ہوگا۔”
یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور غیرعلنی معیشت پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔


