60

خیبرپختونخوا حکومت کے ہرجانے نوٹسز پر صحافیوں کی شدید مخالفت،آزادی صحافت پر حملہ

پشاور(ایچ آراین ڈبلیو)پختون جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA) نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صحافیوں کو ہرجانے کے نوٹسز بھیجنے کے عمل کی سخت مذمت کی ہے، جسے ‘آزادی صحافت پر کھلا حملہ’ قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں متعدد صحافیوں کو بڑی مالی رقم کے ہرجانے نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ ڈان نیوز کے صحافی عبداللہ مومند کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے محض ایک سوال پوچھنے پر ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے ایک ارب روپے کا نوٹس بھجوایا۔ اسی طرح خیبر نیوز کے صحافی وسیم بازدروال کو پچاس کروڑ روپے کا نوٹس موصول ہوا ہے۔

پی جے اے کے صدر قمر یوسفزئی اور جنرل سیکرٹری گوہر محسود نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ “کیا صوبائی حکومت سے سوال پوچھنا اب جرم بن چکا ہے؟ حکومت جواب دہی کے بجائے ہٹ دھرمی اور انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔”

انہوں نے متنبہ کیا کہ “اگر پی ٹی آئی حکومت تنقید یا سوالات کا جواب نہیں دے سکتی تو صحافیوں کو دبانے کی کوشش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ طرز عمل جمہوریت اور آزادی اظہار کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔”

پی جے اے نے ملک بھر کی تمام صحافتی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے اس “غیر جمہوری رویے” کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ اس معاملے پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے بھرپور ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مقامات پر حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے صحافیوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے، جو جمہوری معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں