واشنگٹن/نئی دہلی(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی حکومت نے ایران پر معاشی پابندیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بھارت سمیت تمام ممالک کے لیے چاہ بہار بندرگاہ پر استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔ یہ اقدام بھارت کی علاقائی تجارتی اور اسٹریٹجیک حکمت عملی کے لیے ایک بڑا جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، یہ فیصلہ 29 ستمبر 2023 سے نافذ ہوگا، جس کے بعد بھارت اس اہم بندرگاہ پر اپنے منصوبوں کو جاری نہیں رکھ سکے گا۔ امریکا نے 2018 میں ایران پر پابندیوں کے باوجود بھارت کو اس اسٹریٹجک منصوبے پر کام جاری رکھنے کی خصوصی مراعات دی تھیں۔
بھارت کے لیے سنگین اثرات:
بھارت نے رواں سال مئی میں ہی بندرگاہ کے ایک ٹرمینل کے 10 سالہ آپریشنل معاہدے پر دستخط کیے تھے
چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے لیے ایران اور افغانستان تک تجارتی رسائی کا اہم ذریعہ تھی
اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت وسط ایشیائی ممالک سے تجارت کے اہم مواقع حاصل کرنا چاہتا تھا
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف بھارت کی اقتصادی مفادات کو متاثر کرے گا بلکہ خطے میں اس کی اسٹریٹجیک پوزیشننگ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ یہ اقدام امریکی خارجہ پالیسی میں ایران کے معاملے پر سخت موقف کی عکاسی بھی کرتا ہے-


