اسلام اباد(ایچ آراین ڈبلیو)پشاور کی گلیوں میں ایس پی رینک، ایس ایچ او رینک اور ہیڈ کانسٹیبل جیسے اہلکار بڑے فخر سے وردی پہنے گھوم رہے ہیں، مگر مزے کی بات یہ ہے کہ وہ پولیس کے نہیں بلکہ سول ڈیفنس کے ملازم نکلے۔
ایک اصلی پولیس اہلکار نے شرمندگی کے ساتھ بتایا: “میں نے تو ان کو سلوٹ بھی مار دی تھی، بعد میں پتہ چلا یہ پولیس نہیں ہیں، اب سوچ رہا ہوں کہ عوام بیچاری کس حال میں ہوگی؟”
شہریوں کا کہنا ہے کہ وردی تو پولیس جیسی ہے، بس اتنا فرق ہے کہ وہ تھانے میں نہیں بلکہ بازار اور گلی محلوں میں رعب جھاڑ رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے بڑے افسران بھی شدید کنفیوژن کا شکار ہیں، لگتا ہے جیسے پشاور میں ہر دوسرے دن نیا ایس پی وارد ہو رہا ہے، جس کے کندھے پر چاند تارا بھی جگمگا رہا ہے۔
ادھر عوام کہہ رہی ہے کہ اگر اصل پولیس والے ہی دھوکہ کھا گئے تو پھر عام بندہ کیا کرے؟ مزاحیہ بات یہ ہے کہ کئی لوگوں کو اب شک ہونے لگا ہے کہ کل کلاں کہیں دودھ والا بھی کیپ لگا کے “ایس ایچ او دودھ سپلائی” نہ بن جائے۔
حل تو ابھی تک نہیں نکلا مگر پشاور میں یہ نیا “نقلی پولیس شو” عوام کے لیے سب سے بڑا سسپنس ڈرامہ بن گیا ہے۔


