لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) توشہ خانہ ٹو کیس کے 2 اہم گواہوں کے بیانات سامنے آگئے، بانی پی ٹی آئی کے سابق پرسنل سیکرٹری کا دباؤ ڈال کر بلغاری جیولری سیٹ کی قدر کم کرانے کا انکشاف ہواہے
نجی آپریزر نے بھی اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر جیولری سیٹ کی کم قیمت لگائی، نیب حکام نے بتایا کہ جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے سات کروڑ روپے تھی جبکہ اس بانی پی ٹی آئی نے اس کی قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی۔
نجی ٹی وی ’’سماء نیوز‘‘ کے مطابق گواہان میں بانی پی ٹی آئی کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام شاہ ، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں، گواہان بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کرا چکے، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کرلیا، انعام اللہ شاہ نے پرائیویٹ اپریزر پر دباؤو ڈال کر جیولری سیٹ کی قدر کم کرنے کا انکشاف کیا۔
صہیب عباسی نے کہا کہ انعام اللہ شاہ نے دباؤ ڈال کر بلغاری سیٹ کی 50 لاکھ روپے میں ویلیو لگانے کو کہا، انعام اللہ نے دھمکی دی اگرقیمت کم نہ کی تو سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا، چیئرمین نیب کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ریکارڈ پر دستخط بھی کیے، مجسٹریٹ کے سامنے بھی یہی بیان دیا کہ ڈر کے مارے جیولری سیٹ کی قدر کم کر کے رپورٹ دی۔
صہیب عباسی نے کہا کہ 23 مئی 2024 کو نیب کےتفتیشی افسر کے سامنے پیش کیا گیا، معافی کی درخواست جمع کرائی، 25 مئی 2022 کو کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر نے بلغاری جیولری سیٹ کی تشخیص سونپی تھی، میں نے اپنی رضامندی سے نیب کے تفتیشی افسر کو دستاویزات فراہم کیں۔
انعام اللہ شاہ نے کہا کہ میں نے صہیب عباسی سے جیولری سیٹ کی قدر کم کرنے کو کہا تھا، میں نے پی ٹی آئی اور سرکاری نوکری دونوں سے تنخواہیں وصول کیں، میں 2019 سے 2021 تک ڈبل سیلری وصول کرتا رہا، بشریٰ بی بی کی ناراضی پر نوکری سے برطرف کیا گیا ڈبل سیلری کی شکایت نہیں تھی، بشری بی بی کو شک تھا جہانگیر ترین کے ساتھ میرے بھائی کے تعلقات ہیں، میں پرائم منسٹر ہاؤس کے کنٹرولر کے طور پر بنی گالا ہاؤس میں تعینات تھا۔


